Posts

Showing posts from 2020
Image
شہزادہ سلیمان شاہ خلف شہزادہ جلال الدین سدوزئی مدفن میانوالی: زیر نظر تصاویر میانوالی شہر کے علاقے گُھنڈ والی وانڈھی قبرستان میں واقع سدوزئی شہزادے سلیمان ولد جلال الدین سدوزئی کی قبر کی ہیں. جسکے قتبے پر یہ تحریر بزبان فارسی درج ہے....  ----------------------------------------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم شہزادہ سلیمان شاہ خلف شہزادہ جلال الدین سدوزئی کہ از دو مان احمد شاہ ابدالی بود بتاریخ 19/1/27 بمقام میانوالی از عدم بوجوہ آبد بتاریخ 2/8/27 ازین دار فانی بدار القرار قرار گرفت قالو انا للہ وانا الیہ راجعون ----------------------------------------------------------------------------- اس قبر کے بارے میں مزید کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں ہوسکی. اگر کسی کے پاس ہیں تو راہنمائی فرمائیں... فی الحال مشاہدہ یہ ہے کہ اس قبر کی اصل تختی امتداد زمانہ کی وجہ سے تباہ ہوگئی جسکے بعد اُس مخدوش تختی سے عبارت نقل کر کے اِس نئی تختی پر منتقل کی گئی ہے یہ چیز موجود تختی کی حالت اور اس پر درج لفظ "میانوالی" کے ہجوں سے اخذ کی جاسکتی ہے کیونک...
سلطان خیلوں کی کراچی ہجرت کی تاریخ.. پہلا سلطان خیل جس نے کراچی پر قدم رکھا اس مرد قلندر کا نام شاہنواز خان ھے جی ھاں شاہنواز خان شہابی خیل سلطان خیل کلی کا پہلا فرزند جس نے 1886ء میں کراچی دریافت کیا شنید ھے کہ موصوف پیدل کراچی آئے تھے ۔ شاہنواز خان مرحوم جو میوہ شاہ قبرستان میں آسودہ خاک ھیں ہمارے محسن ھیں جنہوں نے ہمیں کراچی کی راہ دکھائی مرحوم ہمارے لئے اتنا ھی اہم ھے جتنا دنیا کے لئے چاند پر پہلا قدم رکھنے والا نیل آرمسٹرانگ ۔ شاہنواز خان مرحوم کے تین بیٹے تھے جو کراچی میں پیدا ھوئے نواز خان مرحوم ، خواص خان مرحوم اور گلباز خان مرحوم ۔ ( اس معلومات کے لئے جناب ماجد خان شہابی خیل اور جمشید خان شہابی خیل  اور شہنواز خان مرحوم کے اخلاف میں سے ھیں ان کا مشکور ھوں ) آج کراچی کے مختلف علاقوں میں سلطان خیل کلی کے ھر برادری کے لوگ موجود ھیں ۔ میرے اندازے کے مطابق کراچی میں سلطان خیلوں کی آبادی اس وقت 10 سے 15 ھزار ھوگی۔ سلطان خیل کی کراچی آمد کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ھے 1۔ پہلا دور 1886ء تا 1925ء تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1900ء تک سلطان خیل کے چند خ...
Image
قبیلہ پائی خیل کی قدیمی قیام گاہ کی چند تصاویر.... تاریخ نیازی قبائل کتاب کے مطابق قبیلہ پائی خیل بھی اپنے دیگر ہم قوم قبائل کے ساتھ ہجرت کرکے سرہنگ کے مقام پر آیا جو کہ سلطان خیل کا آجکل مقام منڈی مویشیاں ہے. اسکا قدیمی نام سرہنگ میدان تھا یہاں سے کچھ قبائل افغانستان واپس چلے گئے ایک قبیلہ کوہاٹ چلا گیا جو کہ آجکل ہنگو میں آباد ہے. تاریخ نیازی قبائل کتاب کے مطابق پائی خیلوں کی پہلی آبادی موجودہ پائی خیل ریلوے اسٹیشن کے بلکل مشرق میں ماشوماں (اس جگہ پر کسی کم سن بچوں کا مزار ہے جسکی کوئی معلومات نہیں مل سکیں) والی جگہ پر تھی بعدازاں تاجہ خیلوں سے ایک لڑائی میں شکست کے بعد یہ دامن پہاڑ میں چغزہ (لوکیشن کی درست معلومات دستیاب نہیں) کے مقام پر آباد ہوئے پھر وہاں سے اٹھ کر بن حافظ جی چلے گئے وہ بھی راس نہ آئی پھر وہاں سے بھی اٹھ کر موجودہ گولیوالی خوشاب میں اپنے بھائی بندوں گولا خان بن سعداللہ (پائی بوری سلطان اور ڈوڈہ چار بھائی تھے ڈوڈہ کا اصل نام سعداللہ تھا) کے پاس چلے گئے. مگر پھر وہاں سے تین چوتھائی حصہ نے واپس اپنے قدیم کھنڈرات کو جو کہ لعل شاہ کے پاس تھے آباد کئے . آج بھی ...
Image
مروتو کسرانو میں نیازی قوم کا ذکر۔ میری پچھلی پوسٹ جو کہ رباب پر تھی اس پر میرے ایک کرم فرما جناب علی خان صاحب نے پشتو شاعری کے کچھ نایاب اور دلچسپ نمونے اسکرین شارٹ کی صورت میں کمنٹس کئے ۔ جب میں نے وہ منظوم کلام دیکھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرے پاس موجود تاریخی کتب میں کسرانو( پشتو رزمیہ شاعری) سے متعلق کوئی مواد نہیں ھے۔ میں نے یہ کلام دیکھنے کے بعد علی خان صاحب سے مذ کورہ شاعری نمونوں کے بارے میں کتاب کا حوالہ مانگا جس پر موصوف نے ایک لنک بھیجا ۔ میں نہیں جانتا علی خان صاحب کا تعلق نیازیوں کے کس قبیلے سے ھے مگر انہوں نے ایک بالکل نایاب ، دلچسپ اور تاریخی مواد تک میری رسائی ممکن بنائی جس کے لئے میں موصوف کا دلی طور پر ممنون ھوں ۔ میری پشتو چونکہ لکھنے پڑھنے کی حد تک گڈا وڈہ (weak) ھے سو تین دن تک ان مروتوں کے چربتوں میں پھنسا رھا اور اس رزمیہ شاعری کے مآخذ اور پس منظر تک پہنچنے کی کوشش کرتا رھا اور کوئٹہ والوں کی طرح " سر مِ مسّے پہ خلاص سو" تحقیق کَول سوکا چار نہ دا مروتو تاسو پہ چربتو مِ جان تباہ کو ۔ شاعری اور نثر پر مشتمل اس پشتو مواد سے جو کچھ اخذ کیا ...
میانوالی کے نیازی پشتو کیسے بھولے۔۔۔۔ --کافی لوگ پوچھتے ہیں نیازی قوم جو کہ پنجاب میں آباد ہے وہ پشتو بولنا کیوں بھول گئی بہت اچھا سوال ہےمگر اس میں پہلی غلط فہمی یہ کہ پنجاب میں صرف نیازی نہیں پشتو بولنا بھولے بلکہ بلچ، لوہانی، ساغری خٹک، خاکوانی، علی زئی (ملتان والے) ،سدو زئی اور کشمیر کے سدھن قبائل بھی پشتو بھول گئے اسی طرح خیبر پختون خواہ میں آباد ترین, جدون  -اور تنولی قبائل بھی پشتو کو فراموش کر چکے ہیں جب یہ سوال کسی سے بھی  پوچھا جائے تو وہ اپنے موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے فوراً ایک مضحکہ خیز جواب دیتا ہے کہ نیازیوں نے غیر اقوام میں شادیاں کیں۔ مگر اس کا جواب اتنا آسان نہیں جتنا جھٹ سے دے دیا جاتا ہے. اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلئے صدیوں پیچھے مڑ کے دیکھنا پڑے گا بلکہ اس زمانے کو محسوس بھی کرنا پڑے گا.. کیونکہ زبان کی تبدیل ایک پیچیدہ عمل ہے. میانوالی کے نیازیوں نے یکدم پشتو بولنا نہیں چھوڑی بلکہ یہ صدیوں پر محیط پراسیس ہے جس کی مختصر تفصیل یہاں ملاحظہ فرمائیں. اتفاق کرنا یا نہ کرنا آپ کا ذاتی فعل ہے. مدلل اختلاف نئی راہیں کھولتا ہے اسے ہم خوش آمدید کہیں گے.. چ...
Image
کُونڈی اور مچن خیل نیازی: نیازی قوم میں باہی، کُونڈی ، مچن خیل، اور سنبل شاخوں نے دنیا اپنی الگ سے شناخت حاصل کی۔ان قبیلوں سے تعلق رکھنے والے عموماً نیازی کی بجائے اپنے قبیلے کا ذکر کرتے ہیں۔یہ قبائلی تقسیم نہ صرف قدیم ہے بلکہ انکی تعداد بھی کافی زیادہ ہے اور بکھری ہوئی ہے۔ باہی اور سنبل خود تو نیازی ہونے سے انکاری نہیں مگر میانوالی کے کچھ لوگ جو تاریخ سے ناواقفیت کی بناء پر انھیں نیازی نہیں سمجھتے جو کہ سراسر لاعلمی کا نتیجہ ہے اسکے سوا اور کچھ نہیں۔ جبکہ بقیہ دو اقوام مچن خیل اور کُونڈی پر ہم بحث کریں گے- پہلے ہم بات کرتے ہیں مچن خیل قبیلہ پر۔۔۔۔ میانوالی میں مکمّل جبکہ بنوں لکی میں تقریباً اپنے آپ کو نیازی ہی کہلواتے ہیں مگر چند لوگ ایسے ہی جنکی زیادہ تر تعداد بلوچستان میں آباد ہیں ۔ جو لاعلمی کی بناء پر اپنا تعلق مختلف پشتون اقوام سے جوڑتے ہیں۔پشتونوں پر لکھی گئی تمام تر تاریخی کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ مچن بابا ایک ملنگ دوریش صفت شخص تھا۔جنکی تفصیل ہر کتاب میں عموماً درج ہے اور نیازی قوم سے تعلق رکھتے تھے ۔انکی اولاد مچن خیل کہلائی جو پاکستان افغانستان میں پھیلی ہوئی ہے...